آیا حقائق کی پہچان ممکن ہے؟
تحریر: غلام رسول وَلایتی مخاطبین: کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈینٹس
انسانی فطرت میں ایک عجیب سی بےچینی پائی جاتی ہےوہ ہے جاننے کی بےچینی۔ جیسے ہی شعور کی آنکھ کھلتی ہے، انسان سوال کرنے لگتا ہے یہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ یہ تجسس صرف فلسفیوں میں نہیں، بلکہ ہر بچے کی فطرت میں موجود ہے۔ ایک بچہ ماں کی آواز سنتا ہے اور تسلی پاتا ہے، تو وہ ماں کی موجودگی کو محسوس کرتا ہے۔ جب وہ بھوک کی وجہ سے روتا ہے اور ماں اسے غذا دیتی ہے، تو وہ جان لیتا ہے کہ کوئی ہے جو سنتا ہے، دیتا ہے، اور سمجھتا ہے۔ یوں انسان کے اندر یہ احساس جاگتا ہے کہ لوگ موجود ہیں۔
یہ ابتدائی تجربات بتاتے ہیں کہ شناخت یا پہچان، انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے، ہر تہذیب، اور ہر فرد کے اندر کسی نہ کسی انداز میں سچ تک پہنچنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ چاہے وہ سائنسدان ہو، عارف ہو، فلسفی ہو یا عام آدمی یہ سب کسی نہ کسی سوال کے پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔
جب انسان نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلا سوال یہی اٹھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے؟میں کون ہوں؟ میرے اردگرد جو کچھ ہے، کیا وہ واقعی موجود ہے یا صرف میرے ذہن کا عکس ہے؟ انسان نے ابتدا سے ہی یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ جن چیزوں کو دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا یا سمجھتا ہے، وہ کیا واقعی حقیقت رکھتی ہیں یا صرف دکھائی دیتی ہیں؟
ہم روزمرہ زندگی میں چیزوں کو جانتے ہیں، ان پر اعتماد کرتے ہیں، اور ان کے ساتھ برتاؤ بھی کرتے ہیں۔ ہمیں بھوک لگتی ہے تو ہم کھانے کی طرف جاتے ہیں۔ یہ سب تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کسی نہ کسی سطح پر دنیا کو جان رہے ہیں۔ مگر کیا یہ جاننا سچ میں جاننا ہے، یا صرف ایک عارضی اور دھوکہ نما فہم ہے؟یہی وہ سوال ہے جس پر صدیوں سے فلسفی غور کرتے آئے ہیں کیا انسان حقیقت کو پہچان سکتا ہے؟ یا ہمارا ہر علم محض ایک خیال، ایک ظن، یا ایک فریب ہے؟ کچھ مفکرین نے کہا کہ انسان کی عقل حقیقت تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ دوسروں نے کہا کہ شاید ہم صرف اپنی سوچوں، احساسات اور خیالات کے دائرے میں ہی قید ہیں۔یہ مضمون اسی مسئلے کا جائزہ لیتا ہے کہ کیا حقیقت کو پہچاننا ممکن ہے؟
رئیلزم حقیقت کے خارجی وجود کا تصور
جب انسان آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھتا ہے، تو وہ یہ فرض نہیں کرتا کہ سب کچھ ایک فریب ہےبلکہ وہ اپنے مشاہدے پر بھروسا کرتا ہے۔ سورج کی روشنی، پانی کی ٹھنڈک، زمین کی سختی، اور ہوا کا چلنا یہ سب چیزیں ہمارے روزمرہ تجربے کا حصہ ہیں اور ان کی موجودگی پر ہمیں کسی فلسفیانہ دلیل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہی سادہ سا یقین دراصل رئیلزم کہلاتا ہے۔ یہ عقیدہ کہ دنیا واقعی موجود ہے، اور جو ہم دیکھتے، سنتے، محسوس کرتے ہیں، وہ حقیقت رکھتے ہیں۔
رئیلزم وہ نظریہ ہے جس پر نہ صرف عام آدمی بلکہ تمام سائنسی، قانونی اور عملی نظاموں کی بنیادیں قائم ہیں۔ ایک بچہ جب چلنا سیکھتا ہے، تو وہ زمین کی حقیقت پر اعتماد کرتے ہوئے قدم بڑھاتا ہے۔ ایک کسان جب بیج بوتا ہے، تو وہ زمین، موسم اور وقت کے بارے میں یقین رکھتا ہے۔ رئیلزم ہمارے عمل، فکر اور علم کی وہ غیر اعلانیہ بنیاد ہے جس پر ہم ہر روز زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
آئیڈیالزم حقیقت کی ذہنی تعبیر
اگر کوئی یہ کہے کہ دنیائے واقعی وہ ہے جیسی ہم اُسے سوچتے ہیں، تو یہ بات ہمیں ایک لمحے کے لیے رکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں انسان رئیلزم کی سیدھی راہ چھوڑ کر آئیڈیالزم کےمبہم راستے پر قدم رکھتا ہے۔ آئیڈیالزم کا دعویٰ یہ ہے کہ حقیقت اپنے آپ میں کوئی مستقل خارجی شے نہیں، بلکہ ہمارا ذہن اسے جیسا بناتا ہے، ویسی ہی ہمیں محسوس ہوتی ہے۔ ہم چیزوں کو نہ جیسے وہ ہیں، بلکہ جیسے ہم انہیں سمجھنے کے قابل ہیں، ویسے دیکھتے ہیں۔
یہ نظریہ حواس اور تجربے کی بجائے ذہن اور ادراک کو مرکزِ حقیقت قرار دیتا ہے۔ یعنی کائنات کا مطلب، مفہوم، اور حقیقت دراصل ہمارے شعور کے اندر تشکیل پاتی ہے۔ اگر کوئی چیز ہمارے ذہن میں نہیں آتی، تو وہ ہمارے لیے حقیقت بھی نہیں رکھتی گویا علم کی بنیاد خود ذہن ہے، نہ کہ خارج
۔۔۔ جاری ہے
1 تبصرہ
جزاک اللہ ، زبردست لکھا ہے۔ اس پرآشوب دور میں اس طرح کے محققین بھی موجود ہیں۔ خوشی ہورہی ہے ویب سائٹ اور آپ کے مضامین دیکھ کر۔