مبشر زیدی: ترقی یافتہ ممالک میں، جہاں سائنسی سوچ بڑھی ہے، مذہب کی اہمیت کس قدر باقی ہوگی؟ کیا لوگ اپنے مسائل کے لیے پادریوں سے رجوع کرتے ہیں؟ شاید نہیں۔( سائنسی سوچ کا مطلب ہے ریزن، لاجک اور آبزرویشن کی بنیاد پر تحقیق اور اس کے نتائج)۔
جواب از: غلام رسول وَلایتی
اگر یہ مان لیا جائے کہ کسی نظریے کی سچائی یا بطلان کا معیار صرف اس بات سے طے ہوتا ہے کہ کتنے لوگ اسے مان رہے ہیں، یا اس کی طرف کتنے دل مائل ہیں، یا اس کے گرد کتنی بھیڑ اکٹھی ہے، تو یہ ایک واضح فکری مغالطہ ہے۔ حق کی پہچان کا معیار کبھی بھی عوام کا رجحان، اکثریت کا شور یا شہرت کی چمک نہیں ہے۔
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ "إِنَّ دِينَ اَللَّهِ لاَ يُعْرَفُ بِالرِّجَالِ بَلْ بِآيَةِ اَلْحَقِّ فَاعْرِفِ اَلْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ۔۔۔”(وسائل الشیعة , جلد۲۷ , صفحه۱۳۵ )
"بےشک اللہ کا دین لوگوں کے ذریعے پہچانا نہیں جاتا، بلکہ حق کی نشانی سے پہچانا جاتا ہے۔ پس تم حق کو پہچانو، اہلِ حق کو پہچان لو گے۔”
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر لاکھوں کروڑوں افراد کسی بات کو مانتے ہیں تو وہ بات لازماً درست ہوگی۔ لیکن منطق کی اصطلاح میں یہ سوچ مغالطۂ اکثریت (Argumentum ad Populum) کہلاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس خیال کو زیادہ لوگ مانتے ہیں، اس لیے یہ بات سچ ہوگی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے بارہا اکثریت کے جھرمٹ میں باطل کو قبول کیا ہے۔ صدیوں تک لوگ دل و جان سے زمین کو ساکن اور آسمان کو متحرک سمجھتے رہے۔مگر جب دلیل و مشاہدہ کی کسوٹی پر اس نظریے کو پرکھا گیا تو اس کی حقیقت ریت کی دیوار کی طرح گرگئی۔
اسی طرز کے کئی اور مغالطے بھی مشہور ہیں، چالاک لوگ سادہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان سے استفادہ کرتے ہیں جیسے کہ Argumentum ad Verecundiam یعنی فلاں مشہور سائنسدان یا دانشور نے کہا ہے، اس لیے یہ بات درست ہے۔ Bandwagon Fallacy یہ نظریہ مشہور ہے، لہٰذا ہمیں بھی اس کے ساتھ چلنا چاہیے۔
یہ سب سادہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ صداقت کی بنیاد کبھی بھی اکثریت، شہرت یا عارضی مقبولیت پر نہیں رکھی جا سکتی۔ حق کی بنیاد صرف اور صرف عقلِ سلیم، برہانِ قطعی اور مشاہدۂ صحیح پر قائم ہے۔
دیکھیے، اگر کسی کو بیماری لاحق ہو تو وہ ڈاکٹر کے بجائے بازار کے ہجوم کی طرف کیوں جائے؟ اگر موبائل خراب ہو جائے تو وہ کسی واعظ یا خطیب کے پاس کیوں دوڑے؟ اگر دل میں کوئی مابعد الطبیعیاتی سوال اٹھے تو وہ مکینک کے پاس کیوں جائے؟ ہر علم اور ہر فن کا اپنا ایک دائرہ ہے۔ علاج طبیب کے پاس ہے، مشین کی مرمت انجینئر کے پاس ہے نہ کہ ایک دینی عالم کے پاس ہے۔
لہٰذا یہ کہنا کہ لوگ اب مذہب کے بجائے سائنس کی طرف رجوع کرتے ہیں لہذا مذہب کے لیے جگہ باقی نہیں ہے، دراصل ایک مغالطہ ہے۔ سائنس کا دائرہ مادی و تجرباتی دنیا تک محدود ہے، جبکہ مذہب کا دائرہ وجود، اخلاق، مقصدِ حیات اور ابدیت تک پھیلا ہوا ہے۔ سائنس سے آپ جسم کا مرض پوچھ سکتے ہیں، لیکن مرنے کے بعد ظالم سے حساب کتاب لیا جائے گا یا نہیں، اس کا جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔
اسی لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ چونکہ یورپ میں مذہب کی طرف ہجوم کم ہے تو گویا مذہب باطل ہے، یا چونکہ سائنس کی طرف رجوع زیادہ ہے تو وہی مکمل حق ہے، محض عوام فریبی ہے۔اور سائنس اور مذہب کو بے جا آمنے سامنے کرنے کی غلط کوشش ہے، ہر ایک کا اپنا دائرہ کار ہے( ہمارے مقالے ‘سائنٹزم بطور الحادی مبنی اور اس پر تنقیدی جائزہ’، کی طرف رجوع کریں)۔ دینی علم کا انکار کرنا یا کسی فن کی حدود کو دوسرے پر نافذ کرنا غیر منطقی رویہ ہے۔
اگر سائنسی سوچ سے مراد یہ ہو کہ انسان حقائق تک پہنچنے کے لیے مشاہدہ کرے، تجربہ آزمائے، دلیل قائم کرے اور استدلال کی بنیاد پر نتیجہ نکالے، تو یہ طرزِ فکر دین کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں۔ دراصل اسلام نے ہمیشہ اسی طرزِ تفکر کو تقویت دی ہے۔ قرآن بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ زمین و آسمان پر غور کرے، اپنے وجود پر تدبّر کرے اور مظاہرِ فطرت میں خدا کی نشانیوں کو پہچانے۔قرآن میں علامہ طباطبائی کے بقول تین سو کے قریب آیات تفکر،تدبر، تعقل کی طرف ہدایت دے رہی ہیں۔ اسی طرح حدیث کی کتب میں عقل اور تعقل کے بارے میں کئی روایات موجود ہیں۔اسی لیے علامہ کلینیؒ اصول کافی میں سب سے پہلا باب جو باندھا ہے وہ باب عقل و جہل ہے۔ اور شیعہ مکتب فکر میں دین کے بنیادی منابع( sources) میں قرآن، سنت اور تیسرا منبع عقل شمار کیا جاتا ہے۔
لیکن جب کوئی یہ توقع رکھے کہ خدا کو خوردبین کے شیشے میں دیکھا جا سکتا ہے، یا ملائکہ کو لیزر رے کے ذریعے ناپا جا سکتا ہے، تو یہ نہ صرف بچگانہ خواہش ہے بلکہ ایک بنیادی فکری مغالطہ بھی ہے۔ اسے فلسفے کی زبان میں مادیاتی نوعیاتی مغالطہ (materialistic category error) کہا جاتا ہے۔ یعنی ہم ایک ایسے آلے کو استعمال کرنے لگیں جو مخصوص دائرے کے لیے بنایا گیا ہے، مگر اس سے ایسے حقائق کو پرکھنے لگیں جو اس کے دائرے سے ماورا ہیں۔
منطق اور فلسفے میں Category Error اس وقت ہوتا ہے جب کسی چیز کو اس دائرے میں پرکھنے کی کوشش کی جائے جس سے اس کا تعلق ہی نہیں۔یعنی سوال تو درست ہے، لیکن طریقہ اور زاویہ غلط ہے۔
مثلا یونیورسٹی کتنے کلو کی ہے؟
یہ سوال بظاہر درست لگ رہا ہوگا، لیکن حقیقت میں ایک نوعیاتی خطا ہے، کیونکہ وزن انفرادی اشیاء (کتاب، کرسی، عمارت وغیرہ) پر تو بولا جا سکتا ہے، مگر یونیورسٹی بطور ادارہ وزن رکھنے والی شے نہیں ہے۔
یا یہ پوچھنا کہ دوستی کا رنگ کیا ہے؟
یہ بھی ایک category error ہے، کیونکہ رنگ مادی اشیاء کی خصوصیت ہے، مگر دوستی ایک اخلاقی یا نفسیاتی کیفیت ہے۔
بالکل اسی طرح سائنسی طریقہ کار، یا سائنسی تجربے اور مشاہدے اور آلات مادّی اشیا کے لیے ہیں، جبکہ خدا، ملائکہ اور ماورائی حقائق کا تعلق مادی دنیا سے نہیں بلکہ ما بعد الطبیعیات سے ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص خدا کے وجود کو خوردبین یا کسی طبیعی آلے کے ذریعے ثابت یا ردّ کرنا چاہے، تو یہ گویا خود سائنس اور عقل دونوں کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ ہر علم کا ایک دائرہ ہے۔ طبیعیات کا دائرہ محسوسات ہے، جبکہ مذہب کا دائرہ مقصد، معنی اور ماورائی حقیقتیں ہیں۔ جب یہ دونوں اپنے اپنے میدان میں رہیں تو نہ سائنس دین کے لیے خطرہ ہے اور نہ دین سائنس کے لیے۔ بلکہ دونوں مل کر انسانی شعور کو زیادہ کامل اور حقیقت کے قریب تر بناتے ہیں۔
پس آپ کے اشکالات میں کئی منطقی مغالطات موجود ہیں جب کہ آپ ریزن اور لاجک کے بارے میں فرمارہے تھے۔۔۔۔جاری ہے