تحریر: اکبر علی جعفری تصحیح و نظر ثانی: غلام رسول وَلایتی مخاطبین: اسکول و کالج کے طلبا
جدید الحاد کی خصوصیات
انسانی تاریخ میں الحاد ہمیشہ مختلف صورتوں میں موجود رہا ہے، مگر موجودہ دور میں اس نے ایک نئی شکل اختیار کی ہے جسے جدید الحاد کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک نظریہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو میڈیا، تعلیم، سائنس اور ثقافت کے مختلف ذرائع کو استعمال کر کے مذہب اور ایمان کے خلاف بھرپور مہم چلا رہا ہے۔ اسی لیے اس کی خصوصیات کو جاننا نہایت ضروری ہے تاکہ اس کے فکری اور عملی اثرات کو پہچانا جا سکے اور ان کا درست جواب دیا جا سکے۔ لہذا جدید الحاد کی خصوصیات کوبیان کریں گے۔
1۔ الحاد کی فعال اور جارحانہ تشہیر
آج کے دور میں الحاد کو چھپ کر یا صرف علمی حلقوں تک محدود رکھ کر بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے بڑے زور شور سے دنیا کے سامنے پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو روشنی اور آزادی کے علمبردار ظاہر کرتے ہیں اور مذہب کو اندھیرے اور پابندیوں کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس طرح وہ نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ اگر ترقی اور آزادی چاہیے تو مذہب چھوڑ کر الحاد اختیار کرنا ہوگا۔
2۔ الحاد کو فلسفی اقلیت سے عوامی سطح پر لانا
ماضی میں الحاد صرف فلسفیوں اور مخصوص افراد کے درمیان بحث کا موضوع تھا، لیکن آج اسے عوامی سطح پر لایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ نسل آسانی سے متاثر ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے سادہ زبان میں کتابیں، ویڈیوز اور کہانیاں تیار کی جاتی ہیں تاکہ ہر شخص الحاد کو سمجھ سکے اور اس کی طرف مائل ہو۔
3۔ میڈیا کا بھرپور استعمال
میڈیا جدید دور کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ فلموں، ڈراموں، کارٹونز اور دستاویزی فلموں میں اکثر مذہب کو پرانے زمانے کی چیز، دقیانوسی سوچ اور جہالت کی علامت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف الحاد کو جدید، سائنسی اور معقول راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ لوگ جب بار بار ایسے مناظر دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ تصور بیٹھ جاتا ہے کہ مذہب بیکار اور الحاد کامیابی کا راستہ ہے۔
4۔ الحادی مواد کا مختلف زبانوں میں ترجمہ
چونکہ اسلام آج بھی مضبوط اور فعال مذہب کے طور پر دنیا میں نمایاں ہے، اس لیے الحادی تحریک اپنی کتابوں اور ویڈیوز کو عربی اور باقی مسلم ممالک کی زبانوں میں منتقل کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے نوجوانوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو۔ یوں وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان نوجوان آہستہ آہستہ اپنے دین سے دور ہو جائیں اور مغربی الحادی سوچ کو اپنالیں۔
5۔ دین کے خلاف سخت اور توہین آمیز زبان
جدید الحادی تحریک دین کے خلاف نہایت جارحانہ اور بدزبان رویہ اپناتی ہے۔ وہ دین پر علمی اعتراض کرنے کے بجائے اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کی کتابوں کے عنوانات ہی دیکھ لیں جیسے توہمِ خدا، خدا عظیم نہیں ہے، دین تمام برائیوں کی جڑ ہے وغیرہ۔ ان سخت الفاظ کا مقصد یہی ہے کہ دین کے ماننے والے شرمندگی محسوس کریں اور عام لوگ دین کے بارے میں منفی سوچنے لگیں۔
6۔ طنز و مزاح کے ذریعے مذاہب کی تحقیر
طنز اور مزاح لوگوں پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے مذہب اور اس کے مقدسات کو لطیفوں، کارٹونز اور ڈراموں میں بار بار مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب کسی چیز پر بار بار ہنسی مذاق ہو تو لوگ اسے سنجیدہ لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی مقصد ہے کہ نئی نسل مذہب کو سنجیدہ اور محترم نہ سمجھے بلکہ ایک مذاق سمجھے۔
7۔ مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش
خاص طور پر اسلام کو مغربی میڈیا نے دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا ہے۔ خبریں، فلمیں اور ڈرامے یہ دکھاتے ہیں کہ جو بھی مذہب کے قریب ہے وہ شدت پسند اور پرتشدد ہے۔ اس پروپیگنڈے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے سامنے مذہب کو بدنام کیا جائے تاکہ لوگ سمجھیں کہ دین دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
8۔ سائنس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا
جدید الحاد سائنس کی کامیابیوں کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ارتقا کے نظریے کو ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ گویا اب خدا کے وجود کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ اسی طرح سائنسی ترقی کو یہ ثبوت بنا کر دکھایا جاتا ہے کہ مذہب بس پرانی سوچ تھی جو اب بیکار ہو چکی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور مذہب میں کوئی ٹکراؤ نہیں، لیکن الحادی لوگ سائنس کو مذہب کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔
ملحد کی فکری خصوصیات
کچھ فکری اور نفسیاتی خصوصیات ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک ملحد خدا کے وجود کے دلائل کو نہیں سمجھ پاتا ہے۔لہذا اس کی ذہنیت کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ اسے حق کی طرف قائل کیا جا سکے۔ بنا بر ایں ذیل میں ملحد کی خصوصیات بیان کرتے ہیں
1۔ فکر اور الحادی نظریات پر حد سے زیادہ اعتماد
پرانے فلسفی زیادہ تر یہ کہتے تھے کہ خدا کو ثابت کرنا مشکل ہے، لیکن اسے ماننے کا امکان پھر بھی ہے۔ لیکن آج کے جدید ملحدین ضد پر آ گئے ہیں کہ خدا سرے سے موجود ہی نہیں۔وہ اپنی فکر اور الحادی نظریات پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ صرف ان کی عقل ہی سچائی کو جاننے کے لیے کافی ہے، اور وحی یا الٰہی ہدایت کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ سائنسی یا فلسفیانہ نظریات کو آخری حقیقت سمجھ کر ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انکے نزدیک جو بات ان کے فہم میں نہ آئے یا جسے وہ عقلی طور پر ثابت نہ کر سکیں، وہ جھوٹی یا بے بنیاد ہے۔
اس رویے کی وجہ سے وہ خدائی علم اور آسمانی ہدایت کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور اپنے محدود علم کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ ملحد اپنے نظریات کو اتنا زیادہ اہمیت دیتا ہے کہ حقیقت اور خدا کی معرفت کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں۔
2۔ علم کو صرف حسی اور مادی چیزوں تک محدود کرنا
ملحدین یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقت صرف وہی ہے جسے آنکھ سے دیکھا جا سکے یا تجربے سے پرکھا جا سکے۔ جو چیز نظر نہ آئے یا تجربے میں نہ آئے، وہ حقیقت نہیں۔اسی سوچ کی وجہ سے وہ شعور، ضمیراور روح جیسی چیزوں کو بھی صرف دماغ کے اندر ہونے والے کیمیائی عمل جیسا سمجھتے ہیں۔ یعنی انسان کے سب جذبات اور فیصلے ان کے نزدیک بس ایک مشین کے کام کرنے کی طرح ہیں۔یہ نظریہ آخرکار یہ کہتا ہے کہ انسان کے پاس اصل میں کوئی آزادی نہیں، بلکہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے یا تو حیاتیاتی نظام کے مطابق، یا پھر نفسیاتی عادات اور ماحول کے اثر سے۔ٖیعنی کہ اگر انسان اگر کوئی نیکی یا برائی کرتا ہے تو یہ اس کے ماحول، تربیت، نفسیاتی عادات اور جینیاتی اثرات (genes) کی وجہ سے ہے نہ کہ اس کا کوئی ذاتی انتخاب۔
3۔ قطعی اور ظنی حقائق میں فرق نہ کرنا
کائنات میں بہت سی ایسی نشانیاں ہیں جو واضح طور پر بتاتی ہیں کہ یہ سب کچھ کسی حکمت اور منصوبہ بندی کے تحت بنایا گیا ہے۔ مثلاً زمین کا توازن، کائنات کا نظم، انسان کا پیچیدہ نظامِ حیات وغیرہ۔ یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت، علم اور نگرانی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔لیکن کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کی حکمت انسان کو فوراً سمجھ میں نہیں آتی۔ یہاں ایمانی عقل ان مشکل یا غیر واضح چیزوں (متشابہات) کو ان واضح اور ثابت شدہ حقائق (محکمات) کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔اس کے برعکس الحادی فکر یہ کرتی ہے کہ جو چیز سمجھ میں نہ آئے، وہی معیار بنا کر سب کچھ رد کر دیتی ہے۔ یوں وہ کائنات کے نظم و ضبط کو حادثہ قرار دیتی ہے، یا یہ سمجھتی ہے کہ اس میں نقص اور خلل ہے۔