تحریر: اکبر علی جعفری تصحیح و نظر ثانی: غلام رسول وَلایتی مخاطبین: سکول و کالج کے طلبا
اسباب الحاد : سماجی اسباب
الحاد کے اسباب صرف فرد کی ذاتی اور نفسیاتی کمزوریوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس میں سماجی عوامل بھی نہایت مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان چونکہ ایک معاشرتی وجود ہے، اس لیے وہ اپنے گرد و پیش کے ماحول سے براہِ راست اثر قبول کرتا ہے۔ خاندان کی فضا، تعلیمی اداروں (اسکول اور یونیورسٹی) کا ماحول، کام کی جگہ اور سب سے بڑھ کر دوستوں کا رویہ، یہ سب فرد کی شخصیت اور فکر کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ ماحول مثبت ہو تو فرد کے اندر ایمان اور اخلاقی اقدار پروان چڑھتی ہیں، اور اگر یہ منفی ہو تو شک، الحاد اور گمراہی کی راہیں کھل جاتی ہیں۔لہٰذا اب ہم الحاد کے اُن سماجی اسباب کو بیان کرتے ہیں جو درج ذیل ہیں.
1۔ دینی جمود اور تحفظِ ایمان کی کمزوری
کسی بھی معاشرے میں دین کی بنیاد وہ ڈھال ہے جو افراد کو گمراہ نظریات اور باطل افکار سے محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن جب دینداری صرف نام کی رہ جائے اور دین کی اصل روح کمزور پڑ جائے، تو یہی ڈھال ٹوٹنے لگتی ہے۔ ایسے معاشرے میں الحادی نظریات نوجوانوں کے ذہنوں اور دلوں میں آسانی سے سرایت کر سکتے ہیں، خصوصاً ان کے اندر جنہیں صحیح دینی تربیت اور عملی دینداری نصیب نہ ہو۔
یہ دینی کمزوری کئی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی یہ دین کے بارے میں عوامی سطح پر علم اور فہم کے فقدان کی شکل میں سامنے آتی ہے، اور کبھی عبادات، اللہ کی بندگی اور دینی احکام کی پابندی کے شعور کی کمی کی صورت میں۔ جب معاشرہ مجموعی طور پر اس کمزوری کا شکار ہو جائے تو دیندار گھرانوں کے بچے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتے۔ کیونکہ اگرچہ وہ دینی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، لیکن جب باہر کی فضا گمراہی اور فکری انتشار سے لبریز ہو، تو ان کے لیے بھی الحاد اور بے دینی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
یہ کیفیت دراصل دینی جمود یا تحجر کہلاتی ہے۔ یعنی دین کو جمود کا شکار کر دینا، شرعی تعلیمات کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق بیان نہ کرنا، اور جدید فکری و سماجی مسائل کو نظرانداز کر دینا۔ اس طرح دین کو محض پرانے خیالات میں مقید کر دینا دراصل نوجوان نسل کو ان سوالات اور شبہات کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ دینا ہے جو آج کے دور میں ان پر مسلط ہیں۔
البتہ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ دینی ترقی اور توسیع کا مطلب یہ نہیں کہ دین کو بدل دیا جائے یا اس میں تحریف کی جائے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ دین کے ابدی اور ثابت شدہ اصولوں کو نئے انداز میں، معاصر ذہنوں کے مطابق اور دورِ حاضر کے سوالات کے جواب کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ دین اپنی اصلیت پر قائم رہتے ہوئے بھی زندہ اور فعال محسوس ہو۔
2۔ سوالات کو دبانا
انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ سوال کرتا ہے، غور و فکر کرتا ہے اور اشیاء کے پیچھے موجود حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانی کا دورانیہ سوالات، تجسس اور کھوج کا زمانہ ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی خاندان یا معاشرہ اپنے بچوں کے سوالات کو برداشت کرنے کے بجائے سختی سے دبا دے، تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نوجوان جب دین، کائنات، یا زندگی کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو انہیں سختی سے ڈانٹ دیا جاتا ہے، کبھی یہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ یہ سوال کرنا ایمان کے خلاف ہے، یا یہ دین سے نکل جانے کے مترادف ہے۔ کبھی ان کے سوالات کو طنز، مذاق یا حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ سب رویے نوجوان کے اندر احساسِ کمتری پیدا کرتے ہیں، اور وہ اپنی عزتِ نفس اور خودداری بچانے کے لیے اپنے سوالات دل ہی دل میں چھپانے لگتے ہیں۔
لیکن یہ چھپے ہوئے سوالات اور شکوک ختم نہیں ہوتے، بلکہ اندر ہی اندر بڑھتے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ آہستہ آہستہ نوجوان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اسلام کے پاس ان سوالات کے جواب موجود ہی نہیں، بلکہ اسلام نے انہیں دبانے اور ممنوع قرار دینے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ یہی خیال ان کے ذہن میں یہ تصور پیدا کرتا ہے کہ اسلام ایک کمزور دین ہے جو فکری آزادی اور کھلے سوالات کو برداشت نہیں کر سکتا۔
ایسی کیفیت میں نوجوان اپنے معاشرے اور ماحول کے خلاف بغاوت کرنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے سوالات کو سننے اور سمجھنے والا یہاں کوئی نہیں، لہٰذا وہ دوسرے نظریات یا فکری گروہوں کا رخ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الحاد کی تبلیغ کرنے والے اکثر اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہیں اور خاص طور پر اس پہلو پر زور دیتے ہیں کہ اسلام اور مذہب تمہارے سوالات کو دبانا چاہتا ہے، جبکہ الحاد تمہیں سوچنے، سوال کرنے اور بغاوت کرنے کی آزادی دیتا ہے۔
یوں، سوالات کو دبانے کا یہ رویہ نہ صرف نوجوان کو اسلام سے دور کرتا ہے بلکہ اسے یہ یقین دلاتا ہے کہ دین کے پاس ان کے سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ اسلام سوالات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور قرآن خود بار بار غور و فکر، تدبر اور عقل کے استعمال کی دعوت دیتا ہے۔
3۔ خواتین پر ظلم و ستم
نوجوان لڑکیوں میں الحاد کی طرف مائل ہونے کے نمایاں اسباب میں سے ایک خواتین پر ظلم و ستم ہے۔ جب کسی معاشرے میں خواتین کو گھریلو تشدد، ناانصافی یا جبر کا سامنا کرنا پڑے، اور پھر اس ظلم کو کسی نہ کسی شکل میں مذہبی جواز بھی دیا جائے، تو یہ صورتِ حال انہیں دین سے بدظن کر دیتی ہے۔ الحادی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر ایسے مواقع کو غنیمت جانتے ہیں۔ وہ نوجوان لڑکیوں کو آزادی، برابری اور ظلم سے نجات کے خواب دکھاتے ہیں، اور انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دین ہی ان کے مسائل کی اصل جڑ ہے۔
ایسے واقعات کی مثالیں حقیقی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔ بعض اوقات ایک لڑکی جب اپنے بھائی یا شوہر سے ظلم سہتی ہے اور اپنے والد یا خاندان سے داد رسی کی توقع رکھتی ہے، لیکن وہاں بھی اسے یہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ سب دین کے مطابق ہے یا خدا نے مرد کو یہ حق دیا ہے، تو اس کے دل میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر وہ دین، جو جانوروں پر ظلم کی اجازت نہیں دیتا، عورت پر تشدد کو کیسے جائز قرار دے سکتا ہے؟ یہی سوال رفتہ رفتہ شکوک و شبہات میں بدل کر الحاد کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اکثر لڑکیاں سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر ایسے گروہوں کے رابطے میں آتی ہیں جو نہایت نرم لہجے اور ہمدردانہ الفاظ میں ان کے دکھوں کو اپنی آزادی کی تحریک سے جوڑتے ہیں۔ وہ انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر وہ دین سے آزاد ہو جائیں تو حقیقی سکون اور برابری حاصل کر لیں گی۔ حالانکہ حقیقت میں یہ محض ایک فریب ہوتا ہے، کیونکہ ایسے ماحول میں جانے والی خواتین غلط استعمال اور مزید مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ظلم کو دینی تعلیمات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ اسلام کی اصل تعلیمات عورت کے احترام، عزت اور حقوق کے تحفظ پر مبنی ہیں۔ مگر جب عملی سطح پر ان تعلیمات کو توڑ مروڑ کر ظلم کا جواز بنایا جاتا ہے، تو یہی چیز خواتین کے دلوں میں دین کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے اور انہیں الحاد کے قریب لے جاتی ہے۔
4۔ امتِ مسلمہ کی عدم ترقی
نوجوانوں کے ذہنوں میں الحاد کے داخل ہونے کا ایک اور بڑا سبب امتِ مسلمہ کی زبوں حالی اور پسماندگی ہے۔ جب وہ مغربی ممالک کی ترقی، ان کی سائنسی برتری اور سماجی ترقی کو دیکھتے ہیں، اور پھر اس کا موازنہ اپنی امت کے زوال اور پسماندگی سے کرتے ہیں، تو ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام واقعی حق ہے تو اس کے ماننے والے کیوں زوال کا شکار ہیں؟ یہ شکوک رفتہ رفتہ اسلام پر اعتماد کو کمزور کر دیتے ہیں اور آخرکار الحاد کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ سوچ دراصل ایک بڑی غلط فہمی ہے، کیونکہ اسلام کسی قوم کے زوال کا سبب نہیں اور نہ ہی کفر کسی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ مغرب نے محنت، تحقیق اور سائنسی جدوجہد کے ذریعے ترقی کی، جبکہ مسلمان قومیں اپنی سستی، کمزوری اور داخلی مسائل کی وجہ سے پیچھے رہ گئیں۔ ترقی اور پسماندگی کا تعلق محض دنیاوی اسباب اور عملی اقدامات سے ہے، نہ کہ ایمان یا کفر سے۔
تاہم، بعض اوقات مسئلہ مزید پیچیدہ اس وقت ہو جاتا ہے جب دینی رہنما یا معاشرتی قائدین اصلاحات کو محض اس بنیاد پر رد کر دیتے ہیں کہ یہ غیر اسلامی ہیں یا کفار کی نقل ہیں۔ اس رویے کی وجہ سے نوجوان یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید اسلام ہی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جو یورپ میں رینیساس اور روشن خیالی کے دور میں سامنے آئی، جہاں کلیسا کی سخت مزاحمت نے نوجوان نسل کو الحاد کی طرف دھکیل دیا۔
5۔ امتِ مسلمہ میں انتشار اور فرقہ واریت
نوجوانوں کے الحاد کی طرف مائل ہونے کا ایک اور سبب امتِ مسلمہ کے اندرونی اختلافات اور فرقہ واریت ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو وحدت، اخوت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے، لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ مختلف مسالک اور فرقے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ سنی، شیعہ، اباضیہ، صوفیہ، سلفیہ اور دیگر مکاتبِ فکر کے باہمی اختلافات اکثر نوجوانوں کو سخت الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔
جب ایک نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ ہر فرقہ اپنے آپ کو سچا اسلام قرار دے رہا ہے اور باقی کو گمراہ کہہ رہا ہے، تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر وہ خدا، جو حکمت اور رحمت کا سرچشمہ ہے، کیسے اس بات کو گوارا کر سکتا ہے کہ اس کا دین ہی مسلمانوں کے درمیان اس قدر شدید اختلاف اور تفرقے کا باعث بن جائے؟ یہی ذہنی پریشانی اور فکری الجھن بعض اوقات نوجوانوں کو مکمل طور پر دین سے بدظن کر کے الحاد کی طرف دھکیل دیتی ہے۔