تحریر: اکبر علی جعفری تصحیح و نظرثانی:غلام رسول وَلایتی مخاطب: سکول اور کالج کے سٹوڈینٹس
کسی بھی مسئلے کا بہترین حل اس وقت معلوم ہوتا ہے جب اس کے اسباب معلوم ہوں، اور اسباب مختلف ہوسکتے ہیں۔ موجودہ جدید الحاد جیسے مظہر کے اسباب کو اگر ہم تقسیم کرنا چاہیں تو کچھ انفرادی، تو کچھ سماجی اور کچھ علمیاتی ہوسکتے ہیں۔ لہذا جدید الحاد کا حل معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اسباب کی طرف توجہ دی جائے۔لہذاپہلے ہم جدید الحاد کے انفرادی اسباب کو بیان کرتےہیں۔
انفرادی اسباب
یہ وہ اسباب ہیں جو فرد کی ذات سے متعلق ہوتے ہیں، کہ ایک فرد خود اپنی ذات میں موجود خامیوں کی وجہ سے مسائل میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ الحاد کے مندرجہ ذیل شخصی اسباب ہو سکتے ہیں
1۔ حد سے زیادہ خود اعتمادی اور علمی غرور
کچھ نوجوان اپنے ایمان اور عقائد پر بغیر کسی علم و دلیل کے حد سے زیادہ یقین رکھتے ہیں، وہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ میں عقائد کے حوالے سے مکمل طور پر علم رکھتا ہوں، جو کوئی علم عقائد کے حوالے سے ہےتومجھے معلوم ہے۔جبکہ اس کا یقین دین کی حقیقی معرفت، دینی دلائل اور یقین کی بنیادوں کو جانے بغیر ہوتا ہے، اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جب اس قسم کے افراد کا سامنا الحادی شبہات اور سولات سے ہوتا ہے تو ان کے پاس ان اعتراضات کا کوئی علمی اور منطقی جواب نہیں ہوتا ہے، ساتھ میں وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے عقائد کے بارے میں مکمل علم نہیں ہے۔چنانچہ اس قسم کے افراد دین کا ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔
2۔ روحانی خشکی
عبادت کا مقصد صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ قلبی تعلق اور روحانی قرب ہے۔جب انسان نماز، ذکر یا دعا میں خشوع و خضوع کے ساتھ دل کی حاضری پاتا ہے تو وہ ایک خاص روحانی سرور، سکون اور قربِ الٰہی محسوس کرتا ہے۔یہ کیفیت ایک ذائقہ ہے جو دل کو ملتا ہے، جس کی بدولت بندہ اپنے رب سے جُڑنے کی حلاوت کو جان لیتا ہے۔
اگر عبادت میں یہ لذت نہ ہو اور انسان صرف رسمی طور پر عمل انجام دیتا رہے، تو دل بے ذوق، بوجھل اور خشک ہو جاتا ہے۔ایسی حالت میں ذکرِ الٰہی، نماز یا دعا بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، اور رفتہ رفتہ انسان کا دل ان سے اُچاٹ ہو جاتا ہے۔ یہی روحانی خشکی ہے جو انسان کو ایک میکانیکی، بے روح مذہبی رویے میں مبتلا کرتی ہے۔وہ شخص جس نے کبھی بھی عبادت کی حقیقی حلاوت نہیں چکھی، اُس کے لیے الحاد یا دین سے بے رُخی کو اپنانا نسبتاً آسان ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک دین صرف چند بوجھل رسومات کا نام ہے، جس میں کوئی ذوق، سکون یا معنوی کشش موجود نہیں۔لیکن جو شخص کبھی بھی ایک لمحے کے لیے سچے دل سے اللہ کے ذکر کی لذت پا چکا ہو، اس کے لیے دین چھوڑ دینا آسان نہیں۔ کیونکہ وہ قرب و حلاوت کی حقیقت کو اپنی ذات میں محسوس کر چکا ہے، اور یہ تجربہ اسے بار بار واپس کھینچ لاتا ہے۔لہذا جس دل نے ذکر و عبادت کی حقیقی حلاوت پالی ہے، وہ کفر یا الحاد کےکڑوے ذائقےکو دل سے قبول نہیں کر سکتا۔
3۔ سطحی نگری اورمنطقی سوچ کی کمی
آج کل انٹرنیٹ، کتابوں، فلموں اور سوشل میڈیا پر مختلف الحادی افکار آسانی سے دستیاب ہیں۔ کئی نوجوان شوقیہ یا تجسس میں یہ چیزیں پڑھنے اور دیکھنے لگتے ہیں، لیکن چونکہ ان کی علمی اور فکری بنیاد مضبوط نہیں ہوتی، اس لیے وہ جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ان نوجوانوں میں اکثر تنقیدی سوچ کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔وہ کسی بات کو صرف چمکدار اندازِ بیان یا دلکش اندازِ پیشکش کی وجہ سے درست مان لیتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات دلائل کی کسوٹی پر اترتی ہے؟ لیکن چونکہ ان کے پاس جانچنے کے پیمانے ہی نہیں ہوتے، وہ بات کو جیسے پیش کیا گیا، ویسا ہی مان لیتے ہیں۔
یہی کمزوری الحاد میں جانے کا بڑا سبب ہے، اگر نوجوان نے ایک اعتراض پڑھا اور اس کے پیچھے چھپے منطقی یا سائنسی مغالطے کو نہ پہچانا، تو وہ فوراً اسے حقیقت سمجھ لیتا ہے۔جب بار بار ایسا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں دین کے بارے میں شکوک و شبہات بیٹھ جاتے ہیں۔ اور نتیجتا وہ دین کا انکار کر بیٹھتا ہے۔
اگر وہی نوجوان تھوڑا صبر و تحمل کرے، جذباتی ردعمل دینے کے بجائے تحقیق کا راستہ اپنائے، تو اس کے سامنے افکار کی حقیقت کھلنے لگے گی۔
اپنی علمی سطح بلند کرنے سےوہ یہ سیکھ جاتا ہے کہ ہر اعتراض کا کوئی نہ کوئی جواب ہوتا ہے، ہر دلیل کو پرکھنے کا ایک معیار ہے،اور الحادی افکار میں اکثر ظاہری چمک زیادہ اور علمی گہرائی کم ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر کوئی شخص طبی علم کے بغیر کسی جادوئی دوا کا اشتہار دیکھے اور فوراً یقین کر لے، لیکن اگر وہی شخص طب کی بنیادی تعلیم رکھتا ہو، تو وہ فوراً پہچان لے گا کہ یہ اشتہار محض فریب ہے۔
اسی طرح جس نوجوان کے پاس علمی بنیاد اور تنقیدی صلاحیت نہیں، وہ الحادی افکار کو سچ سمجھ لیتا ہے، لیکن جو اپنی فکری سطح بہتر بناتا ہے، اس کے فیصلے مختلف اور زیادہ پختہ ہو جاتے ہیں۔
4۔ عجلت اور جلد بازی
سطحی نگری میں انسان فکری طور پر گہرائی میں جانے کے بجائے سطحی دلائل کو مان لیتا ہے۔ جبکہ عجلت اور جلد بازی میں انسان نفسیاتی طور پر صبر نہیں کرتا اور فوری نتیجہ چاہتا ہے، حالانکہ دونوں کا انجام ایک جیسا ہے۔ انسان حقیقت کو پانے سے پہلے ہی ایک عارضی تاثر کو اپنا لیتا ہے۔
نوجوانی میں جذبات زیادہ اور صبر کم ہوتا ہے۔ اکثر نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کے سوالات کے فوراً جواب مل جائیں، اگر کہیں سے فورا جواب نہ ملے یا کوئی عالم جواب نہ دے سکے تو وہ نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ دین کے پاس جواب ہی نہیں ہے۔
یہ نفسیاتی عجلت ان کو اس بات پر اُبھارتی ہے کہ وہ گہرائی میں سوچنے کے بجائے فوراً الحادی نظریے کو قبول کر لیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے سوالات گہرے غور و فکر مانگتے ہیں۔
جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ اکثر وقتی جذبات پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ صبر کے ساتھ کیا گیا فیصلہ مضبوط دلائل پر مبنی ہوتا ہے۔
5۔ شہوات کا غلبہ اور ضمیر سے فرار کی کوشش
دین انسان کو نفس پر قابو رکھنے اور اپنی خواہشات کو حدود میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، نوجوانی کا دور خاص طور پر جذبات اور شہوات کے غلبے کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس موقع پر جب کوئی نوجوان خواہشاتِ نفس اور دینی احکام کے درمیان کشمکش میں آتا ہے، تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں؛
خواہشات کو قابو کرے اور ضمیر کی آواز پر عمل کرے۔یا پھر ضمیر کی آواز کو دبانے کے لیے دین اور خدا کا ہی انکار کر دے۔
اگر انسان گناہ کرتا ہے لیکن خدا پر ایمان رکھتا ہے تو ضمیر اسے ملامت کرتا ہے۔ بار بار کی ملامت سے بچنے کا ایک نفسیاتی حل یہ نکالا جاتا ہے کہ اگر خدا ہی نہیں ہوگا، تو گناہ بھی نہیں ہوگا۔ یعنی، انسان اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے خدا اور دین کا انکار کرنے لگتا ہے اور ایک عارضی اور دھوکے پر مبنی سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اپنے دماغ کو باربار یہ سمجھا دیتا ہے کہ کوئی گناہ نہیں ہے۔ لیکن یہ سکون دراصل وقتی ہے، کیونکہ یہ صرف احساسِ جرم کو وقتی طور پر دبانے کا نتیجہ ہے، نہ کہ حقیقی اطمینان۔
وقتی طور پر تو انہیں آزادی اور لذت محسوس ہوتی ہے، مگر جلد یا بدیر وہ دیکھتے ہیں کہ شہوات میں ڈوبنے سے بھی اندرونی خلا نہیں بھرتا، وہ خوشی جو ملنی چاہیے تھی، نہیں ملتی۔
لذتیں وقتی ہیں لیکن دل کی گہرائی میں بے سکونی، بے معنویت اور خالی پن بڑھنے لگتا ہے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ کیفیت اکثر نفسیاتی اضطراب، شدید مایوسی،اور بعض اوقات خودکشی کی خواہش تک لے جاتی ہے۔ اور کئی ایسے مشہور ملحدین کو آپ جانتے ہوں گے کہ وہ بالآخر خودکشی کرلیتے ہیں۔
۔۔۔جاری ہے