تحریر: اکبر علی جعفری تصحیح و نظر ثانی: غلام رسول وَلایتی مخاطبین: اسکول و کالج کے طلبا
علمیاتی و معلوماتی اسباب
علمیاتی اسباب سے مراد وہ فکری اور علمی عوامل ہیں جو انسان کے علم، سوچ اور سمجھ بوجھ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور کسی نظریے یا عقیدے کو قبول یا ردّ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ علمی اور فکری کمزوریاں ہیں جو نوجوانوں کو الحاد کے دلائل اور مواد کے سامنے بے بس کر دیتی ہیں۔ جب دین کے لیے معیاری، واضح اور قابلِ فہم جوابات دستیاب نہ ہوں، تو شبہات بڑھتے ہیں، اور الحاد کے سادہ، پراثر دلائل ان خالی جگہوں کو بھر لیتے ہیں۔ اسی طرح علمیاتی اسباب کے علاوہ معلوماتی اسباب مندرجہ ذیل ہیں
1۔ معلوماتی خلا:
آج کے زمانے میں الحاد (یعنی دین سے انکار) کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ علمی اور فکری کمزوری ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسلامی لائبریریوں اور دینی ذخائر میں ایسے سوالات اور شبہات کے جوابات والی کتابیں نایاب ہیں (خصوصا پاکستان میں تو تین سے چار کتابوں کے علاوہ کوئی کتاب موجود ہی نہیں ہے)۔ جب ایک نوجوان کسی شبہے یا سوال کا جواب ڈھونڈتا ہے اور اسے اہل دین اور مدارس کی طرف سے کوئی واضح اور مضبوط جواب نہیں ملتاہے تو وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ شاید اسلام کے پاس ان سوالات کا کوئی حل موجود ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف، الحاد کے فروغ کے لیے بے شمار کتابیں، فلمیں اور آن لائن مواد موجود ہے، جو نہایت آسان، دلکش اور سادہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک بڑا عدم توازن پیدا ہو جاتی ہے، اور نوجوان کا ذہن الحاد کی طرف جھکنے لگتا ہے۔
2۔پیچیدہ انداز گفتگو:
ہمارے بہت سے علما پیچیدہ اور پرانے اندازِ گفتگو استعمال کرتے ہیں، جسے عام لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے۔ نوجوان جب یہ پیچیدہ گفتگو سنتے ہیں تو الجھ جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ملحدین بڑے آسان اور عام فہم الفاظ میں اپنی بات سمجھا دیتے ہیں۔
3۔ علمی خاموشی:
بعض علما نے جدید دور کے شبہات کے جواب لکھنا چھوڑ دیا ہے اور وہ ان شبہات کا جواب دینے سے کتراتے ہیں۔ اس وجہ سے نوجوانوں کو لگتا ہے کہ شاید واقعی دین کے پاس ان سوالات کے جواب نہیں ہیں۔ یہی سوچ ان کے دل و دماغ میں اسلام پر سے اعتماد کم کر دیتی ہے اور انہیں الحاد کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
یہی فضا پھر کئی بڑے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً دنیا میں برائی اور ظلم کیوں ہے؟ مذہب کے نام پر قتل و غارت کیوں ہوئی؟ تقدیر (قضا و قدر) کا مطلب کیا ہے؟ اللہ نے انسان کو کیوں پیدا کیا؟ انسان کیسے پیدا ہوا؟ وغیرہ ایسے سوالات نوجوانوں کے ذہن کو اور بھی الجھا دیتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ بڑا چیلنج یہ ہے کہ جدید علوم، خاص طور پر سائنس کو الحاد کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر کائنات کے آغاز اور بگ بینگ کے بارے میں نظریات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے جیسے یہ دین کو غلط ثابت کر رہے ہوں جبکہ یہ دینی نظرئے کے لیے ایک مددگار نظریہ ہے۔ جب نوجوان ان نظریات کو اس انداز میں سنتے ہیں اور ادھر سے مولوی حضرات کی خاموشی یا شدید جذباتی اور غیر علمی رد عمل دیکھتے ہیں تو وہ فوری طور پر نتیجہ نکالتے ہیں کہ دین فرسودہ ہے اور سائنس ہی اصل حقیقت ہے۔
یہی آج اہل اسلام کے سامنے سب سے امتحان ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ان سائنسی نظریات اور فلسفیانہ دعووں کا صحیح تجزیہ کیا جائے، ان میں جو حقیقت ہے اسے تسلیم کیا جائے اور جو خامی ہے اسے واضح کیا جائے،کیونکہ یہی دین کا حکم ہے۱۔ پھر دین کے اصولوں کی روشنی میں ان باتوں کو سمجھایا جائے۔ اگر یہ کام سادہ، دلکش اور نوجوانوں کی زبان میں کیا جائے تو انہیں یقین ہوگا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو نہ صرف ان کے سوالات کے جواب دیتا ہے بلکہ عقل اور سچائی کے ساتھ سب سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولٰئِکَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَ أُولٰئِکَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ۔ الزمر
جو بات کو سنا کرتے ہیں اور اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی صاحبان عقل ہیں۔