مغربی تمدن میں ثقافتی و تعلیمی سرگرمیاں صرف مادیات میں منحصر ہیں۔ انسان کے انسانی پہلو کو سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ صرف انسان کی مادی ساخت و بافت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
تجرباتی علوم نے انسان کے حیوانی پہلو کو سیراب کیا ہے اور روحانی پہلو کو تشنہ چھوڑا ہے۔
مادی پہلو سیراب کرنے کی کوشش لا حاصل ہے کیونکہ انسان اگر روحانی قدروں کا مالک نہ ہو اور اس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت اور وسائل عیش و نوش آجائیں تو انسان میں پوشیدہ خواہشات کا درندہ بیدار ہو جاتا ہے۔ یہ درندہ اپنے خطرناک سینگ، پنجے اور دانت نکالنا شروع کرتا ہے۔ پھر وہ کسی کے قابو میں نہیں آتا اور پریشان حال رہتا ہے۔ سکون چھن جاتا ہے۔ نیند حرام ہو جاتی ہے۔ کام و دہن کی لذت سے محروم ہو جاتا ہے اور مختلف بیماریوں کا شکار ہونے کی وجہ سے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔
روایت کے مطابق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ قسمت ساز فرمان کس قدر سبق آموز ہے اور اس میں انسان ساز زندگی کا سلیقہ ہے۔ ہشام سے فرمایا:
ان کان مايکفيک يغينك فادنی ما فيها يغنيک وان کان ما يکفيک لا يغنيک فکل ما فيها لا يغنيک۔ (۱)
اگر تیری کفایت کی چیز تجھے بے نیاز کرتی ہے تو کمترین چیز تجھے بے نیاز کر دے گی اگر تیری کفایت کی چیز تجھے بے نیاز نہیں کرتی تو دنیا کی کوئی چیز تجھے بے نیاز نہیں کر سکتی۔
لیو بولڈ فائس جس نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام محمد اسد رکھا، اپنی کتاب "الاسلام علی مفترق الطرق” میں لکھتے ہیں:
جدید مغربی دنیا نے اپنی کوششوں سے سائنسی فوائد حاصل کیے۔ ان کا مقصد زندگی کے اسرار و رموز کا انکشاف تھا… لیکن زندگی کسے کہتے ہیں، اس کا مقصد و منزل کیا ہے؟ یہ یورپ والوں سے پوشیدہ رہا اور وہ اس کی اہمیت کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔ (۲)
المفصل کے مؤلف امریکہ میں اپنے چشم دید حالات میں لکھتے ہیں:
امریکی، دین کی روح، احترام و تقدس سے زیادہ کسی اور چیز سے دور نہیں ہیں۔ اگر چرچ عبادت کی جگہ ہے تو امریکی چرچ میں سوائے عبادت کے باقی سب کچھ ہوتا ہے۔ یعنی جتنی کثافتیں اور فحاشیاں دوسری جگہ ہوتی ہیں وہ چرچ میں بھی ہوتی ہیں۔
کتاب "اسلام و سیمای تمدن غرب” کے مؤلف لکھتے ہیں:
مجھے ہیمبرگ (Hamburg) میں ایک یہودی چرچ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میں عمارت دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔ ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہمیں ایک خصوصی ہال دکھایا گیا جو شراب نوشی کے لیے مخصوص تھا۔
حقائق کا مسخ
آج کل کے دنیا پرست ایسی باتوں کو تمدن کا حصہ قرار دیتے ہیں جو ننگ و رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے:
۱۔ بے لگامی اور نازیبا حرکتوں کو ’’آزادی‘‘ ،
۲۔ خواتین کی عریانی اور بے حیائی کو ’’تمدن‘‘
۳۔ مقابلہ حسن کو ’’شخصیت‘‘،
۴۔ ہرگونہ فساد میں غرق ہونے کو ’’حریت‘‘ ،
۵۔ بے گناہ لوگوں کے قتل و غارت کو ’’طاقت و قوت‘‘،
۶۔ تخریب کاری اور دیگر اقوام کے استحصال کو ’’آبادی کاری و تعمیر‘‘
۷۔ اخلاق سوز کردار کو ’’خواہشات کا احترام‘‘،
۸۔ محروم لوگوں کے حقوق پامال کرنے کو ’’انسانی حقوق‘‘
۹۔ بری عادت کی اسیری اور عار و ننگ کی ہوس پرستی کو ’’آزادی، احترم وانتخاب‘‘،
۱۰۔ دھوکہ و فریب کے ذریعے دوسروں کی دولت پر ڈاکہ ڈالنے کو ’’قابلیت و لیاقت‘‘،
۱۱۔ عدل و انصاف کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کا احترام رکھنے کو ’’نالائقی‘‘،
۱۲۔ خدا پرستی اور اطاعت خدا کو ’’قدامت پرستی‘‘،
۱۳۔ جھوٹ، عہد شکنی دو رخی کو ’’سیاست‘‘،
اور
۱۴۔ بے دینی کو ’’روشن خیالی‘‘ کہتے ہیں۔ (۳)
صدر کلنٹن نے ایک بار کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
ہمارا ملک دنیا کا طاقتور، امیر ترین اورنہایت خوبصورت ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم جرائم میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں۔
مؤلف "المفصل فی رد الحضارة الغربية” لکھتے ہیں:
ایک تنظیم کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق سالانہ تین لاکھ عورتیں یورپ میں جسم فروشی کے لیے داخل ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ میں روزانہ ۷۵ ہزار برازیلی عورتیں جسم فروشی کرتی ہیں۔
برطانیہ کے ایک مجلہ کے مطابق برطانیہ میں ہر پانچ افراد میں سے ایک فرد کسی کے (ناجائز) بچے کو اپنا بچہ سمجھ کر پالتا ہے۔
CNN کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ کے غریب ملکوں، مشرقی یورپ اور روس سے مغربی یورپ کے لوگوں کو سالانہ بیس لاکھ عورتیں اور بچیاں جسم فروشی کے لیے فروخت ہوتی ہیں اور پندرہ ہزار سے زیادہ عورتیں اسی شرمناک مقصد کے لیے امریکہ بھیجی جاتی ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق میکسیکو (Mexico)سے ہوتا ہے اور جسم فروشی کے لیے مشرقی ایشیا سے آنے والی عورتیں سولہ ہزار ڈالر میں فروخت ہوتی ہیں۔
مغرب میں نکاح کے بغیر زنا کاری بہت آسان ہے اور نکاح کے بعد جائز ازدواجی تعلق بہت مشکل ہے۔ تاریخ انسان میں ایسی ذلیل ترین تہذیب وجود میں نہیں آئی۔
یونیسکو (UNESCO)کے شعبہ خواتین کی ایک رپورٹ، جو سنہ ۲۰۰۶ء کی کانفرنس میں پیش کی گئی تھی، میں آیا ہے کہ گزشتہ اکتیس سالوں میں چالیس ملین عورتیں جسم فروشی کے مراکز میں فروخت کی گئی ہیں۔ (۴)
اٹلی کی پولیس رپورٹ کے مطابق اٹلی میں روزانہ سات ہزار (۷۰۰۰) جرائم سرزد ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ۱۴ سے۲۰ سالہ ستر (۷۰) فیصد لڑکیاں بے پدر اطفال پالنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ میں یہ پریشانی ہے کہ اس کا کیا حل ہو سکتا ہے۔ والدین اور تعلیمی ادارے اس کا حل تلاش کر رہے ہیں اور سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اسلام کی تعلیم، اخلاقیات ان اداروں میں پڑھائی جائیں تاکہ معاشرے کی اخلاقیات سدھر سکیں۔ (۵)
مؤلف کتاب "المفصل فی الرد علی حضارة الغربیۃ "لکھتے ہیں:
ایک امریکی لڑکی نے امریکہ کی اجتماعی زندگی کے بارے میں گفتگو کے اثنا میں مجھ سے کہا:
جنسی تعلقات ایک خالص بیالوجیکل (Biological) مسئلہ ہے۔ تم مشرقی لوگ اس سادہ مسئلے میں اخلاقی عنصر داخل کر کے اسے پیچیدہ بناتے ہو۔ دیکھیے گھوڑے، بیل، گائے، بکری، بھیڑ، مرغا وغیرہ کسی اخلاقی پابندی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی زندگی آسان ہے۔
جرمن ذرائع ابلاغ میں ایک لڑکی کا ذکر آتا رہا جس نے اعلان کیا تھا کہ میں ایک ہزار مردوں سے جنسی تعلقات قائم کرنے سے پہلے اخبارت کو انٹرویو نہیں دوں گی۔
واضح رہے مغربی دنیا میں مرد و زن کا جنسی تعلق قائم کرنا، خواہ اجنبی ہو یا شوہر والی، اگر دونوں کی رضامندی سے ہو تو ناجائز تصور نہیں ہوتا۔
کسی خاتون کے چھ سات اجنبی مرد فرینڈز نہ ہوں تو عیب شمار ہوتا ہے۔ ان تمام جنسی بے راہرویوں اور آزادیوں کے باوجود مغرب والوں کی جنسی خواہشات پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔
مغربی تمدن کے بارے میں ڈاکٹر الیکسس کاریل (Dr. Alexis Carrel) نے یہ تبصرہ کیا ہے:
عصر حاضر کا تمدن ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔ یہ تمدن ہم سے سازگار نہیں ہے کیونکہ یہ ہماری حقیقی طبیعت کی شناخت کے بغیر قائم کیا گیا ہے۔ یہ تمدن سائنسی انکشافات سے پیدا ہونے والے خیالات، لوگوں کی خواہشات، ان کے اوہام، نظریات اور رغبتوں کی پیداوار ہے۔ اگرچہ یہ تمدن ہماری کاوشوں سے وجود میں آیا ہے لیکن یہ ہماری ظرفیت، اجتماعی شکل و صورت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
کسی مغربی مفکر نے کہا ہے:
مغرب معنویات میں مشرق کا محتاج ہے۔ مشرق معنویات، روحانیات میں مغرب سے بہت آگے ہے۔
مشہور ماہر سوروکن (Sorokin) کہتے ہیں:
مغرب میں زندگی کے اہم پہلو اور تمدن غیر معمولی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس تمدن کے جسم و جان دونوں سخت بیمار ہیں۔ مغربی تمدن کے جسم یا اعصاب میں بہتر کام کرنے والے کسی حصے کا موجود ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔(۶)
مغرب میں آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے وجود میں آزاد ہے۔ دوسرے کی زندگی میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ شوہر بیوی کی آزادی میں، باپ بیٹی کی آزادی میں دخل نہیں دے سکتا۔
مغرب کا انسان
سنہ ۱۹۶۰ء میں ایک سو پچیس ملین ٹن گندم امریکہ کے سٹوریج میں سٹرا کر خراب کی گئی تاکہ گندم کا نرخ محفوظ رہے اور لاکھوں ٹن گندم سمندر برد کی گئی تاکہ اس کی قیمت برقرار رہے۔
برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell) کہتے ہیں:
گزشتہ چودہ سالوں میں چار ارب ڈالر کی خوراک امریکہ نے قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے ضائع کی۔
حوالہ جات:
۱۔ الکافی ۲: ۱۳۹ باب ذم الدنیا
۲۔ المفصل
۳۔ عجائب و مطالب
۴۔ عجائب و مطالب ص ۲۵۵
۵۔ عجائب و مطالب
۶۔ اسلامی و سیمای تمدن غرب
اقتباس از کتاب ” انسان اور کائنات میں اللہ کی تجلی”