خود کشی کا روز افزون رجحان (۱)
مغرب میں زندگی سے مایوس معاشروں میں خودکشی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس موضوع پر ادریس کنبوری کی تحریر کا خلاصہ:
مغرب کی یاس، پریشانی اور بے سکون زندگی کی ایک علامت خود کشی کا رجحان ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس نے یورپ کے تمام ملکوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔
چنانچہ ڈنمارک، آسٹریا اور فن لینڈ کے بعد سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات فرانس میں ہو رہے ہیں۔ چنانچہ فرانس میں ہر روز ۴۰۰ افراد اقدام خودکشی کرتے ہیں اور سنہ ۱۹۹۰ء کے بعد خود کشی کے واقعات میں ساڑھے تین گنا اضافہ ہوا ہے جن میں ۲۵ اور ۳۴ سالہ نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔
جرمن میں سنہ۱۹۹۵ء میں ۱۲۸۸۸ لوگوں نے اقدام خود کشی کیا۔ مغربی ممالک میں اس آفت کے ذریعے لوگوں کی زندگی کا خاتمہ عام ہونے لگا ہے۔
عالمی ادارئہ صحت نے ایک سو پانچ (۱۰۵) ملکوں کی رپورٹ پیش کی جس میں کہا ہے:
سنہ ۱۹۵۰ء سے ۱۹۹۵ء میں خودکشی میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
کہتے ہیں خودکشی سے مرنے والوں کی تعداد جھگڑوں اور ٹریفک حادثات میں مرنے والوں سے زیادہ ہے۔
چند سالوں میں روس میں ۵۲۵۰۰، امریکہ میں ۳۱۰۰۰، جرمن میں ۱۲۵۰۰ اور فرانس میں ۱۱۶۰۰ افراد نے خود کشی کی۔
مغربی معاشرے میں خودکشی کے اسباب میں سب سے بڑا سبب خاندانی زندگی کا فقدان اور تنہائی کی وجہ سے زندہ رہنا ناگوار ہو جانا ہے۔
چنانچہ سویڈن میں چالیس فیصد اور برطانیہ میں سات ملین افراد تنہا رہتے ہیں۔
سنہ ۲۰۱۰ء کی ایک رپورٹ میں آیا ہے کہ برطانیہ کی کل آبادی میں تنہا رہنے والوں کی تعداد خاندان یا ساتھیوں کے ساتھ رہنے والوں سے زیادہ ہے اور لندن کے ترقی یافتہ علاقوں میں نصف سے زیادہ مکانوں میں تنہا افراد رہتے ہیں۔
تعجب کا مقام ہے کہ کچھ لوگوں نے خودکشی کو ایک نظریہ بنا لیا اور اجتماعی خودکشی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
کتاب اسلام اور سائنس صفحہ ۶۳ میں ہے:
خودکشی کی جتنی واردتیں گزشتہ دس سالوں میں ہوئی ہیں پوری تاریخ ان وارداتوں سے خالی ہے۔ اس جدید انسان نے فاسفورس بم ایجاد کیا جس کی آگ پانی سے بھی نہیں بجھتی۔ اس انسان نے حیاتیاتی جرثوموں پر مبنی ہتھیاروں، جوہری بموں اور بے شمار قسم کے اسلحہ کے ذخائر بڑی تعداد میں جمع کیے ہیں کہ ان ذخائر سے موجودہ دنیا کو سینکڑوں مرتبہ تباہ و برباد کیا جا سکتا ہے۔
اسی کتاب میں ’’جدید تہذیب تاریخ کی سفاک ترین تہذیب ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے:
یہ وہ انسان ہے جس نے تین سو سالوں میں ایک ارب پچھتر کروڑ انسانوں کو قتل کیا۔
ازواج و طلاق
سنہ ۱۹۹۶ء میں شادی کے بعد طلاق کی شرح سویڈن میں ۶۴ فیصد ، امریکہ میں ۴۹ فیصد،بیلجیم میں ۵۶ فیصد، برطانیہ میں ۵۳ فیصد، روس میں ۵۶ فیصداور ترکی میں ۶ فیصد تھی۔
مغربی ثقافت نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں صرف عالم مادیات میں منحصر رکھیں، انسان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر کی ہے تو صرف انسان کے مادی پہلو سے۔
تجرباتی علوم نہ ہونے سے مادی خسارہ آسان ہے اور انسانی علوم نہ ہونے سے روحانی خسارہ ناقابل تلافی ہے۔
جدید تمدن اور کرئہ ارض کا المیہ
ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۔ (۲)
لوگوں کے اپنے اعمال کے باعث خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہو گیا تاکہ انہیں ان کے بعض اعمال کا ذائقہ چکھایا جائے، شاید یہ لوگ باز آ جائیں۔
کرۂ ارض زندگی کے لیے سازگار ہونے کے بعد عصر حاضر کا انسان اپنے ہاتھوں اسے ایک المیہ کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ المیہ کرۂ ارض کا ماحول ہے۔
بعض دانشور کہتے ہیں:
افریقہ کے غیر مہذب اور جدید تمدن سے دور لوگ زیادہ عیش و آرام میں ہیں بہ نسبت امریکہ کے رہنے والوں کے۔ کرئہ ارض ناقابل تلافی اور مہلک اثرات کی زد میں ہے۔
اس پر قرآن کی یہ آیت صادق آتی ہے:
حَتّٰٓي اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ اَہْلُہَآ اَنَّھُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَيْہَآ۰ۙ اَتٰىھَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنٰھَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ۰ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔ (۳)
پھر جب زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہو گئی اور زمین کے مالک یہ خیال کرنے لگے کہ اب وہ اس پر قابو پا چکے ہیں تو (ناگہاں) رات کے وقت یا دن کے وقت اس پر ہمارا حکم آ پڑا تو ہم نے اسے کاٹ کر ایسا صاف کر ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ بھی موجود نہ تھا، غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے ہم اپنی نشانیاں اس طرح کھول کر بیان کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں امریکہ کے سابق نائب صدر الگور (Al Gore) نے ایک تحقیقی جائزہ لیا ہے اور اس موضوع پرایک کتاب لکھی ہے جس کا عربی میں ترجمہ "الارض فی المیزان” کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب میں درج ذیل خطرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان خطرات کا ایک مختصر اقتباس پیش کرتے ہیں:
۱۔کوڑا : شہروں سے نکلنے والا لاکھوں ٹن کوڑا ماحول کے لیے نہایت مہلک ثابت ہو رہا ہے۔ اسے جلانا بھی اس کا حل نہیں ہےکیونکہ اس کے جلانے سے کرئہ ارض کا حفاظتی غلاف متاثر ہوتا ہے۔
۲۔ ہوا کی آلودگی: یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو کسی خاص علاقے سے متعلق نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے کیونکہ ہوا کی آلودگی شمالی یورپ سے نکلتی ہے، قطبی علاقوں میں پہنچ جاتی ہے اور وہاں سے پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہر ذی روح متاثر ہوتا ہے بلکہ یہ درختوں تک کو متاثر کرتی ہے۔
۳۔ اوزون کا سوراخ : کرئہ ارض پر ایک حفاظتی قدرتی غلاف ہے جو سورج کی قاتل شعاعوں کے زمین تک پہنچنے میں فلٹر کا کام کرتا ہے۔ جدید صنعتی کارخانوں سے اٹھنے والی گیسیں اس حفاظتی غلاف کو کھا رہی ہے۔ ان قاتل شعاعوں کے زمین پر پہنچنے سے جلد کا کینسر اور آشوب چشم کی بیماریاں عام ہونے والی ہیں۔ چنانچہ آج بھی شمالی آسٹریلیا میں ۷۵ فیصد لوگ جن کی عمریں ۶۵ سال تک ہیں جلد کے کینسر میں مبتلا ہیں۔
خطرناک یہ ہے کہ اوزون کا سوراخ وسیع تر ہو رہا ہے۔ اس وقت یہ سوراخ امریکہ کے کل رقبے سے تین گنا بڑا ہو چکا ہے۔
۴۔ قدرتی نظافت: زمین کے گرد حفاظتی غلاف اگر آلودہ ہو جائے تو عام حالات میں ایک قدرتی عمل کے ذریعے اس کی صفائی ہوتی ہے لیکن جدید صنعتی تمدن کی وجہ سے مختلف چیزیں جلانے کے باعث قدرتی صفائی کا عمل متاثر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو نہایت خطرناک ہے۔
۵۔ درجہ حرارت میں اضافہ: درجہ حرارت میں اضافہ ہونا نہایت خطرناک مسئلہ ہے۔ جدید صنعتی پیشرفت سے کرئہ ارض کا غلاف شدید متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ حرارت جو کرئہ ارض کی فضا میں پھیلتی رہتی تھی وہ مختلف گیسوں کی شکل میں جمع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خطرہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہونے سے نہیں بلکہ اس حرارت سے کرئہ ارض کا کل نظام درہم برہم ہونے کا خطرہ ہے چونکہ اس کی وجہ سے ہوا کی رفتار اور بارشوں کی مقدار میں تبدیلی آنے والی ہے نیز خشک سالی سے قحط کا خطرہ ہے اور امن و سلامتی بھی خطرے میں ہے۔ پانی کی کمی کا بھی خطرہ ہے بلکہ گلیشیرز پگھلنے سے بہت سے ممالک کے سمندر میں غرق ہونے کا خطرہ ہے۔
۶۔ جنگلات کی تباہی: جنگلات میں کمی آنے سے بارشیں کم ہوتی ہیں اور زمین غیر آباد ہو سکتی ہے۔ چنانچہ افریقی ملک اتھوپیا اس کی مثال ہے جہاں جنگلوں کی تباہی کی وجہ سے زمین بنجر ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں وہاں قحط سالی اور خانہ جنگی درپیش ہے۔
۷۔ پانی کی آلودگی: جدید صنعتی آلودگیوں سے پانی میں بہت سا کیمیکل مواد شامل ہو رہا ہے۔ اس کا ایک سبب پانی میں پیٹرول گرنا ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور روس کی بعض نہروں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
پانی کی آلودگی سے پوری دنیا خاص کر تیسری دنیا میں اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جیسے ہیضہ (Cholera)، ٹائیفائڈ، اسہال وغیرہ سے ہونے والی اموات۔
۸۔ ردیات (Waste) : عالمی ادارئہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق تیسری دنیا یورپ کی ٹیکنالوجیکل ردیوں (Technological waste) کی اہم مارکیٹ ہے یہ ردیات نہایت آلودہ، مہلک اور ماحول کے لیے نہایت ضرر رساں ہیں۔ چنانچہ اہل یورپ زہریلی اشیاء، خراب بیج، گلی سڑی غذائی اشیاء، دوائیں اور فاسد غذائیں تیسری دنیا میں اپنے تجربات کے لیے فروخت کرتے ہیں۔
امریکہ کے اخبارات میں نشر ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ۲۶۵ ملین ٹن ردی موجود ہوتی ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے اور یورپ میں سالانہ ۳۵ ٹن ردی موجود ہوتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں کے مطابق کیمیکل ردیوں کی تجارت بڑے پیمانے پر ہور رہی ہے اور اس دھندے میں مختلف مافیا ملوث ہیں۔
حوالہ جات:
۱۔ از کتاب مفصل فی رد الحضارۃ العربیۃ۔ ادریس کنبوری
۲۔ سورہ الروم: ۴۱
۳۔ سورہ یونس: ۲۴
اقتباس از کتاب "انسان اور کائنات میں اللہ کی تجلی”