181
Table of Contents
ترجمہ: غلام رسول وَلایتی، ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن
استادحمیدرضا شاکرین، اسسٹنٹ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک کلچر اینڈ تھاٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ
[…] (گذشتہ سے پیوسطہ) […]
نظریہ ارتقا اور اسلامی فلسفہ
ایک اور اہم بحث چارلز ڈارون کے نظریہ ارتقا (Theory of Evolution) کی ہے۔ یہ نظریہ بعض فلسفیانہ مکاتبِ فکر میں مسائل پیدا کرتا ہے اور کچھ فلسفیانہ نظام اس کو قبول نہیں کر پاتے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ابن سینا کا فلسفہ، کلاسیکی ارسطویی جوہر پسندی (Aristotelian Essentialism) پر مبنی ہے، اور چونکہ نظریہ ارتقا اس تصور کے خلاف ہے، اس لیے ابن سینا کا فلسفہ اس نظریے کو قبول نہیں کر سکتا۔ لیکن میں ذاتی طور پر اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ میری رائے میں ہم ابن سینا کے فلسفہ کے اندر رہتے ہوئے بھی ارتقا کے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔
البتہ، ملا صدرا نے اپنے نظریہ تشکیک الوجود (Gradation of Being) کے ذریعے اس بحث کو مکمل طور پر حل کر دیا ہے۔ ان کے فلسفے میں ارتقا کو باآسانی جگہ دی جا سکتی ہے، اور کوئی نظریاتی تعارض (Contradiction) باقی نہیں رہتا۔ تاہم، چونکہ طبیعت پسندی کے حامی اس نظریے کو خدا کے تصور کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، لہذا اسلامی فلسفہ اس کا بہت مضبوط جواب دیتا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ صرف اسلامی فلسفہ ہی نہیں جو اس مسئلے پر کام کر رہا ہے۔ بلکہ مغرب میں بھی کئی فلسفیوں اور سائنسدانوں نے اس نظریے کے دینی یا ماورائے طبیعی پہلو کو قبول کیا ہے اور مختلف زاویوں سے اس کا دفاع کیا ہے۔ کیا نظریہ ارتقا اور خدا کا تصور ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟ اسلامی فلسفہ میں ارتقا کے نظریے کو باآسانی قبول کیا جا سکتا ہے، اور اس سے خدا کے تصور پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ بلکہ اس فلسفے کے اندر رہتے ہوئے ارتقا کو ایک الہی تدبیر (Divine Plan) کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
سائنسی وضاحت حتمی وضاحت نہیں
آخری نکتہ یہ ہے کہ سائنس کسی بھی چیز کی حتمی (Ultimate) وضاحت نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جدید سائنسدان یہ مانتے ہیں کہ سائنسی وضاحت کو تکمیل (Completion) کے لیے "ماورائے سائنسی وضاحت” (Metascientific Explanation) درکار ہے۔
کائنات کی حتمی وضاحت؛
کائنات کی حتمی وضاحت (Ultimate Explanation of the Universe) ہمیشہ ماورائے طبیعت (Metaphysical) ہوگی۔ یہ وضاحت ہمیں تین ذرائع سے مل سکتی ہے:
1. شہود (Mystical Experience)
2. دین (Religion)
3. فلسفہ (Philosophy)
یہاں ایک بار پھر اسلامی فلسفہ اپنی طاقتور فکری بنیادوں کے ساتھ سامنے آتا ہے اور اس مسئلے کو پوری قوت کے ساتھ حل کرتا ہے۔
مغربی فلسفے میں ایک بنیادی مسئلہ
یہ بات درست ہے کہ مغربی فلسفہ بھی ماورائی مباحث میں داخل ہوا ہے، لیکن وہاں ایک بنیادی مسئلہ باقی رہتا ہے۔ یوں کہ حتی میں تیس سالوں سے اسلامی اور مغربی فلسفے پہ کام کرر ہا ہوں جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے اپنی تحقیقات میں کہ اس مسئلے کا حل اسلامی فسلفے کے علاوہ کہیں بھی نہیں ہے، مثلاً، جب آپ "ماورائے طبیعی” (Metaphysical) سطح پر جاتے ہیں، تو آخرکار خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود خدا کیا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ خدا "علت العلل” (Cause of All Causes) اور "واجب الوجود” (Necessary Being) ہے۔ لیکن کیوں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا کوئی تسلی بخش جواب مغربی فلسفے میں نہیں ملتا۔ چنانچہ، تمام الحادی فلسفی، چاہے وہ سائنسی الحاد (Scientific Atheism) کے قائل ہوں یا فلسفیانہ الحاد (Philosophical Atheism) کے، آخرکار اسی نکتے پر آ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامی فلسفہ کو مغربی فلسفے سے ممتاز کرتا ہے۔
مسٹر کینتھول اسمتھ، جو کہ ایک فلاسفی آف سائنس کے ماہر شمار کیے جاتے ہیں، اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ: "قانونِ علیت کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز بغیر علت کے وجود میں نہیں آتی، لہٰذا خدا کا وجود ممکن نہیں۔” یہ استدلال فلسفہ اسلامی کی نظر میں انتہائی سطحی، کمزور اور عامیانہ ہے، یہاں تک کہ یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کوئی فلسفی ایسا استدلال پیش کرے۔ اسی طرح برٹرینڈ رسل نے بھی کہتا ہے کہ یہ قانون علیت کا نقض ہے۔ یہی بات دیگر الحادی فلسفیوں جیسے جان ہاسپرز، رچرڈ ڈاکنز اور دیگر نے بھی کہی ہے۔
اسلامی فلسفہ اور علت کی حاجت
یہ مسئلہ ایک خالص فلسفیانہ بحث ہے اور اسلامی فلسفہ (خصوصاً فلسفہ صدرائی) اس کا بہترین حل پیش کرتا ہے۔ ایک گہری بحث اس میں موجود ہے کہ علت کی حاجت کا ملاک کیا ہے؟ علت کی ضرورت یعنی کیا ؟ کیوں علت کی ضرورت ہے؟ جب تک ایک مضبوط وجودی (Ontological) تجزیہ نہ ہو، یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
اور ملا صدرا اس میدان کے سب سے بڑے فلسفی ہیں، جنہوں نے بےمثال عقلی گہرائی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کیا۔ اگرچہ ان کا تجزیہ پیچیدہ اور گہرا ہے اور ہر عام شخص کے لیے آسان نہیں، بلکہ انتہائی گہری فکر والوں کے ساتھ مربوط ہے، لیکن درعین حال یہ انتہائی خوبصورت اور عمیق ہے۔ جیساکہ میں نے مغربی فلسفے میں کسی کو نہیں پایا جو اتنی قوت اور خوبصورتی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرتا ہو۔