350
ڈاکٹر سید حسین نصر
ترجمہ :ڈاکٹر تحسین فراقی
(درج ذیل وقیع مقالہ ڈاکٹر سید حسین نصر صاحب کی مشہور کتاب Islam & the Plight of Modern Man کے آخری اور ایک اعتبار سے اہم ترین باب The Westren World & It’s Challenges to Islam کا ترجمہ ہے، اس باب میں ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ کتاب کے مباحث کو نہ صرف خوبی سے سمیٹ لیا ہے بلکہ فکری سطح پر عالم اسلام کو مغرب کی جانب سے در پیش مسائل و خطرات سے نمٹنے کیلئے اسلام کی فکری میراث کی روشنی میں رہنماء اصول فراہم کرنے کی کوشش بھی کی ہے)
اسلام کےلئے ایک اور ازم جو بڑے خطرے کا باعث ہے وہ ہے جس کی اسلام میں مداخلت کی مارکس ازم کے مقابلے میں نسبتاً لمبی تاریخ ہے، یہ ڈارون ازم یا ”ارتقائیت“ ہے جس کے اثرات خصوصاً برعظیم ہندوستان کے مسلمانوں میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں اور اس کا سبب واضح طور پر وہاں کے نظام تعلیم پر برطانوی اثرات کی ہمہ گیری ہے، ہم اس سے پہلے ایک موقع پر نظریہ ارتقاء کے خلاف ممتاز یورپی ماہرینِ حیاتیات کے کارناموں کا ذکر کر چکے ہیں اور یہ ثابت کرنے کےلئے معاصر ماہرینِ بشریات کے ثبوت پیش کر چکے ہیں کہ پہلے اور جو کچھ بھی ہو چکا ہو مگر انسان اس وقت سے لے کر جب اس نے ارضی تاریخ کی اسٹیج پر پہلا قدم رکھا آج تک ایک ذرہ برابر بھی ”ارتقاء پذیر“ نہیں ہوا لیکن افسوس ہے کہ کم و بیش کسی بھی معاصر مسلمان مفکر نے ان منابع کی طرف متوجہ ہونے اور اسلام کے روایتی تصور انسان کی تقویت کیلئے ان دلائل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی __
جدیدیت زدہ مسلمانوں کا ایک کافی حصہ ”ارتقائیت“ کو ایمان کا رُکن تصور کرتا ہے اور قرآنی تعلیمات سے اس کے واضح ٹکراؤ کو محسوس کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا، حقیقت یہ ہے کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا جو مابعد الطبیعاتی اعتبار سے ناممکن اور منطقی طور پر لغو ہے بعض ممالک میں اسلام کے بعض پہلوؤں کے ساتھ اس نزاکت سے گوندھ دیا گیا ہے کہ اس سے نہایت افسوسناک اور بعض صورتوں میں خطرناک امتزاج سامنے آگیا ہے، ہماری مراد صرف اس صدی کے آغاز پر نظر آنے والے قرآن کے سطحی مفسّروں سے نہیں بلکہ اقبال کے سے قد کاٹھ کے مفکر سے ہے جو وکٹورین عہد کے نظریہ ارتقاء اور نٹشے کے ”مافوق البشر“ دونوں سے متاثر تھے، اقبال اسلام کی ایک صاحبِ تاثیر معاصر شخصیت ہیں لیکن بہ حیثیت ایک شاعر کے ان کا تمام احترام ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ ان کے افکار کا ”اجتہاد“ کی روشنی میں مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے، وہی ”اجتہاد“ جس کی اقبال خود تبلیغ کرتے تھے، انہیں ایک اونچے سنگھاسن پر بٹھانے کی یقینا ضرورت نہیں __
اگر ان کے افکار کا احتیاط سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں بعض اشیاء کے معاملے میں بیک وقت محبت و نفرت کی کشاکش تھی، بشمول تصوف کے ساتھ ان کے محبت و نفرت کے رویے کے، وہ رومی کی تعریف کرتے تھے لیکن حافظ جیسی شخصیت کےلئے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے، اس کا سبب یہ ہے کہ ایک طرف تو صوفیانہ یا زیادہ عمومی معنوں میں، انسان کامل کا اسلامی تصور اُنہیں اپنی جانب کھینچتا تھا اور دوسری جانب نیٹشے کا فوق البشر کا تصور حالانکہ یہ دونوں تصورات ایک دوسرے کی مکمل ضد ہیں، اقبال نے ان دونوں کو مخلوط کرنے کی خاصی بڑی غلطی کر ڈالی، ان سے یہ مہلک غلطی اس لئے سرزد ہوئی کہ اسلام کے بعض پہلوؤں کے گہرے ادراک کے باوجود انہوں نے اپنے وقت کے رائج نظریہ ارتقاء کو بڑی سنجیدگی سے اپنا لیا، اصل میں ایک زیادہ واضح اور قابل فہم سطح پر اقبال ایک ایسے رجحان کا اشاریہ فراہم کرتے ہیں جو کئی جدید مسلمان لکھنے والوں کے یہاں ملتا ہے جو بجاے ”ارتقائیت“ کی غلطیوں اور نارسائیوں کا جواب دینے کے معذرت خواہانہ انداز میں چاروں شانے چت ہو کر اسے نہ صرف قبول کر لیتے ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کی بھی اس کے مطابق تاویل کرتے ہیں __
ارتقائی ذہنیت سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کا عام رجحان یہ ہے کہ وہ اسلام کا تصورِ مرورِ زمان بھول جاتے ہیں، قرآن حکیم کے آخری پارے جن میں مابعد الموت اور معاد اور اسی قبیل کے دیگر مباحث اور بنی نوع انسان کے آخری ایام کی تفصیل ملتی ہے یا بھلا دیے جاتے ہیں یا ان کے بارے میں سکوت اختیار کر لیا جاتا ہے، وہ تمام احادیث جو آخری دور اور مہدی کے ظہور سے متعلق ہیں یا تو پس پشت ڈال دی جاتی ہیں یا جہالت یا بدنیتی کی وجہ سے ان کی غلط تاویل کی جاتی ہے، صرف حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہی لے لیجیے جس میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ مسلمانوں کی بہترین نسل وہ لوگ ہیں جو میرے معاصر ہیں، پھر بعد کی نسل کے پھر اسکے بعد کی نسل کے الیٰ آخر الزماں، یہ حدیث اسلامی نقطۂ نگاہ کے مطابق سیدھی لکیر کے ارتقاء اور تاریخی ارتقاء کو ردّ کرنے کےلئے کافی ہے، وہ لوگ جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ارتقائی نظریات کو جو عہد موجود میں جس طرح سمجھے جاتے ہیں، اسی طرح اسلام کی فکریات میں شامل کرکے اسلام کی کوئی خدمت بجا لا رہے ہیں، حقیقتاً ایک انتہائی مہلک گڑھے میں گر رہے ہیں اور اسلام کو جدید انسان کے ایک انتہائی مکارانہ خود ساختہ عقیدے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں، وہ نظریہ جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں انسان کو خدا فراموشی کا بہانہ فراہم کرنے کےلئے گھڑا گیا تھا.