330
ڈاکٹر سید حسین نصر
ترجمہ :ڈاکٹر تحسین فراقی
(درج ذیل وقیع مقالہ ڈاکٹر سید حسین نصر صاحب کی مشہور کتاب Islam & the Plight of Modern Man کے آخری اور ایک اعتبار سے اہم ترین باب The Westren World & It’s Challenges to Islam کا ترجمہ ہے، اس باب میں ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ کتاب کے مباحث کو نہ صرف خوبی سے سمیٹ لیا ہے بلکہ فکری سطح پر عالم اسلام کو مغرب کی جانب سے در پیش مسائل و خطرات سے نمٹنے کیلئے اسلام کی فکری میراث کی روشنی میں رہنماء اصول فراہم کرنے کی کوشش بھی کی ہے)
جدیدیت زدہ مسلمانوں کا، تہذیب مغرب پر ایمان مجروح ہوچکا لیکن اس کے باوجود مسلمان اب تک افکار اور مادی اشیا کے معاملے میں مغرب کے دست نگر ہیں، چونکہ جدیدیت زدہ مسلمانوں کو اپنی فکری روایت پر اعتماد نہیں اسی لئے وہ ایک سادہ تختی کی طرح مغرب سے کسی نقش کی آمد کے انتظار میں ہیں، مزید یہ کہ اسلامی دنیا کا جو جو حصہ مغرب کے جس جس حصے سے فکری طور پر متصل رہ چکا ہے وہاں وہاں سے اسے افکار کی رنگا رنگ گٹھڑیاں ملتی رہتی ہیں، مثال کے طور پر عمرانیات کے میدان یا جیسا کہ پہلے کہا گیا فلسفہ کے میدان میں، برعظیم ہندوستان نے پچھلی صدی سے انگریزی دبستانوں کی پیروی کی ہے اور ایران نے فرانسیسی مدارس کی لیکن ہر کہیں جدیدیت زدہ طبقے اس امید میں بیٹھے ہیں کہ کہیں سے کوئی بھی چیز چہرہ نُما ہو تاکہ یہ اسے اختیار کرسکیں، ایک دن یہ شے ”اثباتیت“ ہوسکتی ہے اور اگلے ہی روز اسٹرکچرل ازم (نسیبحیت) کوئی شخص بھی اس بات کی زحمت نہیں اٹھاتا کہ وہ صحیح اسلامی طرز فکر کو اپنا سکے جو ایک غیر متبدل مرکز سے آغاز کار کرے اور ایک معروضی طریقہ کار کو کام میں لاتے ہوئے ہر اس شے کی تحقیق و تفتیش کرے جو مغرب کی آندھی ہمارے رستے میں لا ڈالتی ہے __
ہماری فکری فضاء اتنی ہی مایوس کن ہے جتنی عورتوں کے فیشن کی فضاء جہاں اکثر اسلامی ممالک کی عورتیں بہ حیثیت سعادت مند گاہکوں کے مکمل طور پر منفعل رہتی ہیں اور ہر اس شے کی اندھا دھند تقلید کرتی ہیں جو مٹھی بھر مغربی فیشن ساز ان کےلئے فیصلہ کرکے بنا ڈالتے ہیں، لباس کے فیشن اور فلسفیانہ اور فنی فیشن طرازی کے مسئلے دونوں میں جدیدیت زدہ مسلمانوں کا اس مرکز میں کوئی عمل دخل نہیں جہاں فیصلے کئے جا رہے ہیں، یہ بات درست ہے کہ خود اہل مغرب ان تحریکوں کی گہری جڑوں سے بہت کم آگاہ ہوتے ہیں جو مغرب میں یکے بعد دیگرے چلتی رہتی ہیں مثلاً آج سے بیس سال پہلے خود یورپ میں کسی شخص کو یہ احساس نہیں تھا کہ ہپیوں کی ایک ایسی زبردست تحریک اٹھے گی جو مغرب میں دور دور تک پھیل جائے گی لیکن بیچارے جدیدیت زدہ مسلمان تو اس دھارے سے اور بھی دور ہیں کیونکہ وہ نہ صرف یہ کہ اس کی اصل و بنیاد سے ناواقف ہوتے ہیں بلکہ ایسی تحریکوں کے آغاز و ارتقاء کے مراحل سے بھی نابلد ہوتے ہیں اور منتظر رہتے ہیں کہ کب یہ تحریکیں صدر نشیں ہوتی ہیں اور پھر یا تو وہ حیرت سے اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہیں یا پھر دوبارہ اسی کورانہ تقلید کے دھارے میں بہہ نکلتے ہیں، اس صورتحال کی ایک موزوں ترین مثال ماحولیاتی بحران کی ہے، مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھر ے منتظر بیٹھے رہے حتیٰ کہ مغربیوں کی ایک کثیر تعداد کیلئے یہ بحران ایک مرکزی تشویش کا باعث بن گیا اور ہمیں اس مسئلے کی موجودگی کی خبر بھی نہ تھی بلکہ اب بھی اسلامی دنیا کے کتنے افراد اس نازک مسئلے پر فطرت سے متعلق اسلام کی انتہائی عظیم روایت کی روشنی میں غور کر رہے ہیں؟ حالانکہ اگر ایسا کیا جاتا تو اس عظیم بحران کے ممکنہ حل کےلئے کلید دستیاب ہو سکتی تھی __
مغرب کی جانب سے اسلام کو دیئے گئے چیلنجوں پر زیادہ ٹھوس گفتگو کرنے کیلئے ان چند ”ازموں“ کی مثالیں پیش کرنا ضروری ہیں جو آج کی دنیا میں فیشن کے طور پر چل رہے ہیں اور جنہوں نے اسلامی دنیا کی تہذیبی اور دینی زندگی کو بھی شدید طور پر متاثر کیا ہے، آیئے! مارکس ازم یا زیادہ عمومی لفظوں میں ”سوشل ازم“ سے بات کا آغاز کریں، آج دنیائے اسلام کے متعدد حصوں میں مارکس ازم پر خاصی گفتگو چل رہی ہے، مارکس ازم اگرچہ براہ راست اسلام پر حملہ آور نہیں ہوتا لیکن معاشی اور سماجی سرگرمی کے علاوہ خود مذہبی زندگی کو بالواسطہ طور پر متاثر کر رہا ہے، دنیاے اسلام میں اکثر جو لوگ عموماً مارکس ازم یا سوشل ازم کی بات کرتے ہیں وہ معاشرے کے بعض موجود مسائل کو ذہن میں رکھ کر گفتگو کرتے ہیں جن کے حل وہ تلاش کرنا چاہتے ہیں لیکن شاذ ہی ان میں ایسے لوگ ہوں گے جو واقعتاً مارکس ازم یا نظری سوشل ازم سے سنجیدگی سے واقف بھی ہوں گے، یونیورسٹی کے حلقوں میں نوجوانوں کی مارکسزم کے باب میں ساری گفتگو کے باوجود حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ان میں کتنے ہیں جنھوں نے واقعتاً ”داس کیپٹل“ کا مطالعہ کیا ہوگا یا چند اہم ثانوی منابع ہی تک جن کی رسائی ہوئی ہوگی یا وہ خالص فکری سطح پر مارکس ازم کا دفاع کرنے کے قابل ہوں گے؟ __
اس مارکسی فیشن کی وجہ سے کئی نوجوان مسلمانوں کے ہاتھ ایک بہانہ آگیا ہے چنانچہ وہ اسلامی معاشرے کے مسائل پر خاص اپنے سماجی تناظر میں اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق سنجیدگی سے سوچنے سے گریزاں نظر آتے ہیں، اس صندوق سیاہ کو یہ جانے بغیر کہ اس کے اندر کیا ہے محض اس کے لیبل کی بنیاد پر قبول کر کے اپنی انا کے غبارے میں تو ہوا بھری جاسکتی ہے اور اپنے ذہن کو اس فریب نظر کا اسیر تو کیا جا سکتا ہے کہ ہم ”دانشور“ بن گئے ہیں اور آزاد خیال دانشوروں کے حلقے کے رکن ہو گئے ہیں لیکن ان دانشوروں نے (جو ہر قسم کے مسائل کے حل کیلئے پہلے سے متعینہ مارکسی اصولوں کی، جو اصل میں دوسرے ملکوں کے خصوصی سماجی و تہذیبی تناظر میں وضع کئے گئے تھے، پیروی کرتے نہیں تھکتے) کبھی یہ ذمہ داری قبول نہیں کی کہ وہ ایک اسلامی معاشرے کے مسائل پر، بہ حیثیت ایک اسلامی معاشرے کے مسائل کے، نئے طریقے سے غور کریں، مارکس ازم کی گٹھڑی کی یہی کورانہ تقلید ہے جو یہ جاننے ہی نہیں دیتی کہ اس کے اندر کیا ہے، یہ اسپرین کی ٹکیہ سمجھ لی گئی ہے جو ہر درد کا مداوا ہے چنانچہ اس کورانہ تقلید ہی نے بدترین قسم کی بازاری لیڈری کو جنم دیا ہے، مسائل کو معنی خیز اور معقول انداز میں سمجھنے کے بجائے، مارکس ازم کا اسیر ہو جانے والوں کے یہاں ایک ایسی اندھی، ٹھس اور گھامڑ قسم کی اطاعت پیدا ہو جاتی ہے جس کانتیجہ ایک بے ہودہ محاذ آرائی کی شکل میں نکلتا ہے اور بالآخر یہ اس ذہنی فالج پر منتج ہوتی ہے جس سے اسلامی سوسائٹی کے نوجوان کو ناقابل بیان نقصان پہنچتا ہے، ایمان کو پہنچنے والے صریح نقصان کا تو کیا مذکور! __
بدقسمتی سے مسلمان علماء کی طرف سے جدلیاتی مادیت کا جو جواب اب تک دیا گیا ہے وہ کم و بیش ان دلائل پر مشتمل ہے جو نقلی علوم یا مذہبی علوم سے ماخوذ تھے اور اس باب میں اسلام کی اس باثروت فکری روایت سے اخذ و استفادہ نہیں کیا گیا جو اسلام کے روایتی عقلی علوم میں موجود تھی، اب یہ بات تو واضح ہے کہ مذہبی دلائل تو صرف ان لوگوں کے سامنے پیش کئے جا سکتے ہیں جو پہلے سے ایمان والے ہوں، اس کا کیا فائدہ کہ کسی ایسے شخص کے کسی خیال کو رد کرنے کےلئے قرآن کا کوئی خاص حصہ پڑھ دیا جائے جو قرآن سے سند لینے کا قائل ہی نہ ہو؟ اس باب میں علماء کی لکھی ہوئی اکثر کتابیں تنقید کی زد میں آتی ہیں کیونکہ یہ بہرے کانوں سے خطاب کرتی ہیں اور ایسے دلائل پیش کرتی ہیں جو اس خاص تناظر میں کوئی تاثیر نہیں رکھتے، یہ امر اس لئے اور بھی زیادہ افسوسناک ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلامی روایت میں ایسا عمق اور وسعت موجود ہے کہ یہ جدید مغربی فلسفے کی اٹھائی ہوئی کسی بھی دلیل کا فکری سطح پر جواب دینے کی مکمل طور پر اہل ہے، آخر کیا یہ حقیقت نہیں کہ روایتی دانش کے سامنے یہ تمام جدید فلسفہ سوائے ایک شور وغوغا کے کوئی حیثیت نہیں رکھتا جس کے بل پر خود فریبی میں مبتلاء ہو کر یہ آسمانوں کو فتح کرنے چلا ہے؟ آج کے بہت سے نام نہاد مسائل اصل میں غلط سمت میں کئے گئے سوالوں اور صداقتوں سے لاعلمی کے باعث وجود میں آئے ہیں اور ان کی نوعیت ایسی ہے کہ انہیں صرف روایتی دانش ہی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، ایسی روایتی دانش جو قدیم بابل سے عہد وسطیٰ کے چین تک موجود ہے اور جو اپنی بے حد آفاقی اور متنوع شکل میں اسلام میں ملتی ہے، اس وسیع و عریض فکری روایت میں جو اسلام ان چودہ صدیوں میں وجود میں لایا ہے __
حال ہی میں اسلام کےلئے مارکس ازم کا خطرہ پہلے سے کہیں بڑھ گیا ہے خصوصاً عرب دنیا میں ایک ایسے مارکس ازم کی وجہ سے جس پر اسلام کا ملمع چڑھایا گیا ہے اور جو بعض سادہ نفسوں کیلئے خاص کشش کا باعث ہے، مذہب کا یہ عیارانہ استعمال، جو اکثر براہ راست سیاسی مقاصد کےلئے ہوتا ہے درحقیقت مذہب دشمن یا کم از کم واضح اور ”کھرے“ مارکس ازم کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ رویہ اس طبقے کے فکر و عمل سے ملتا جلتا ہے جسے قرآن نے ”منافقوں“ کا نام دیا ہے، اس صورت میں بھی اس کے سوا اسلام کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا کہ اس قسم کے جعلی امتزاجات کا فکری سطح پر توڑ کیا جا سکے اور یہ بات واضح کر دی جائے کہ ہر وہ چیز جس کے آغاز میں بسم اللہ لکھ دی جائے اسلام نہیں بن جاتی بلکہ اسلام نام ہے حقیقت کے اس مکمل ویژن کا جو کسی قسم کی نیم صداقت سے سمجھوتہ نہیں کر سکتا __